بار[3]
معنی
١ - سلاخ، چھڑ، سریا۔ "ان گاڑیوں کی وضع امنی بس گاڑیوں کے موافق تھی، جن کے پول اور بار کسی قدر بڑھے ہوئے تھے۔" ( ١٩١٢ء، سفر بغداد، ٧٥ ) ٢ - عدالتی وکیلوں کا گروہ؛ وکلا کی انجمن۔ "قانون کی حکمرانی کے لیے بنچ اور بار کے درمیان تعاون ضروری ہے۔" ( ١٩٦٧ء، روزنامہ 'حریت، کراچی، ١٩ فروری، ١ ) ٣ - عدالت کی وہ جگہ جہاں وکلاء کھڑے ہو کر موکلوں کی طرف سے تقریر کرتے ہیں۔ (جامع اللغات، 377:1) ٤ - ہوٹل وغیرہ کی وہ جگہ جہا بیٹھ کر شراب پیتے ہیں۔ "ممتاز نے جہاز کی بار سے برانڈی منگوائی۔" ( ١٩٦٦ء، خالی بوتلیں خالی )
اشتقاق
انگریزی زبان میں اصل (Bar) ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو میں اصلی معنی میں ہی 'بار' مستعمل ہے۔ اردو میں تحریری طور پر ١٨٩٤ء میں "طوفان سرشار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سلاخ، چھڑ، سریا۔ "ان گاڑیوں کی وضع امنی بس گاڑیوں کے موافق تھی، جن کے پول اور بار کسی قدر بڑھے ہوئے تھے۔" ( ١٩١٢ء، سفر بغداد، ٧٥ ) ٢ - عدالتی وکیلوں کا گروہ؛ وکلا کی انجمن۔ "قانون کی حکمرانی کے لیے بنچ اور بار کے درمیان تعاون ضروری ہے۔" ( ١٩٦٧ء، روزنامہ 'حریت، کراچی، ١٩ فروری، ١ ) ٤ - ہوٹل وغیرہ کی وہ جگہ جہا بیٹھ کر شراب پیتے ہیں۔ "ممتاز نے جہاز کی بار سے برانڈی منگوائی۔" ( ١٩٦٦ء، خالی بوتلیں خالی )